مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر کاظم جلالی نے روسی اخبار کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ہے کہ ایران اور وینزویلا کے بارے میں امریکا کی پالیسیاں اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ واشنگٹن کسی کی قومی خودمختاری کا احترام نہیں کرتا۔
جلالی نے لکھا کہ 2026 کے اوائل میں پیش آنے والے واقعات، جن میں وینزویلا کے صدر کے خلاف غیر قانونی اقدامات اور ایران کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے منظم دہشت گرد کارروائیاں شامل ہیں، اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی اور قانون کی بالادستی پر طاقت کی منطق کے غلبے کی واضح مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تباہی کی انجینئرنگ کی یہ عریاں صورتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی قومی خودمختاری کا احترام صرف اسی وقت کرتے ہیں جب یہ ان کی بالادستی کے مفاد میں ہو۔
ایرانی سفیر کے مطابق آج کی دنیا ایک بنیادی مسئلے سے دوچار ہے، جسے قواعد پر مبنی نظام سے ایک خطرناک انداز میں طاقت کے پیراڈائم کی طرف منتقلی قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں کھلی طاقت نے عملاً بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی جگہ لے لی ہے اور قانونی ضابطوں کی تشریح محض غالب طاقتوں کی بالادستی کو مضبوط کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔
جلالی نے زور دے کر کہا کہ اسی دوران امریکا کے مداخلت پسندانہ طرز عمل نے تشدد کے تسلسل کو جنم دیا ہے اور قومی ڈھانچوں کو کمزور کیا ہے، جس کے نتیجے میں دائمی عدم استحکام اور نظامی انتشار کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب رجیم چینج کی حکمت عملی سرکاری سیاسی نظریے کا حصہ بن جائے اور سرحد پار پابندیوں کو سفارتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے تو بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی بالادستی کا تصور بری طرح مجروح ہو جاتا ہے۔
اس ماحول میں، ان کے بقول، ممالک کی قومی سلامتی قانونی معاہدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ مغربی مداخلت پسند طاقتوں کی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر متعین کی جا رہی ہے۔ جلالی نے نشاندہی کی کہ تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ قانون اور نظم سے انحراف کبھی امن نہیں لا سکتا بلکہ افراتفری کے مراکز پیدا کر کے پورے نظام کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ